ٹماٹر کا بیکٹریل دھبہ

  • علامات

  • محرک

  • حیاتیاتی کنٹرول

  • کیمیائی کنٹرول

  • احتیاطی تدابیر

ٹماٹر کا بیکٹریل دھبہ

Xanthomonas spp.

بیکٹیریا


لب لباب

  • چھوٹے، پیلے تا سبز زخم نو عمر پتوں پر نمودار ہوتے ہیں.
  • پتے بدہیئت ہو جاتے ہیں اور مڑ جاتے ہیں.
  • پرانے پتے اور پھلوں پر پیلے ہالے کے ساتھ گہرے، پانی میں بھیگے ہوئے زخم.

میزبانان:

ٹماٹر

علامات

یہ بیکٹیریا ٹماٹر کے شاخ و برگ، تنوں اور پھل پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ابتدائی علامات نو عمر پتوں پر چھوٹے، پیلے تا سبز زخم ہیں جو عموماً بدہیئت اور مڑے ہوئے ظاہر ہوتے ہیں۔ پرانے شاخ و برگ پر زخم نسوں سے پابند ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ زاویائی عنصر اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ پہلے پہل حلیے میں گہرے سبز، چکنے اور اکثر ایک پیلے ہالے سے گھرے ہوتے ہیں۔ یہ عموماً پتے کے مارجن یا سروں پر زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں۔ اگر حالات سازگار ہوں تو یہ تیزی سے 0.25 سے 0.5 سینٹی میٹر چوڑے ہو جاتے ہیں اور سانولے سے بھورے مائل سرخ ہو جاتے ہیں۔ بالآخر یہ گولی کے سوراخ کی طرح لگنے لگتے ہیں کیونکہ مرکز خشک ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔ پھل کے دھبے (0.5 سینٹی میٹر تک) ابتدا میں مدھم سبز، پانی میں بھیگے ہوئے اور پیلے ہالے سے گھرے ہوئے حصے ہوتے ہیں اور بالآخر کھردرے ہو کر بھورے اور پپڑی نما ہو جاتے ہیں۔

محرک

بیکٹیریل دھبہ قسم زینتھوموناس بیکٹیریا کی متعدد انواع سے ہوتا ہے۔ یہ دنیا بھر میں ہوتا ہے اور گرم و نم ماحول میں اگائے جانے والے ٹماٹروں پر ہونے والے سب سے تباہ کن امراض میں سے ایک ہے۔ یہ مرض زا بیجوں کے اندر یا اوپر، پودے کے فضلے پر یا مخصوص جھاڑیوں پر زندہ رہ سکتا ہے۔ مٹی میں اس کا زندہ رہنے کا عرصہ کافی محدود ہوتا ہے نیز کچھ دن سے ہفتوں تک ہوتا ہے۔ جب حالات سازگار ہوں تو یہ بارش یا اونچائی سے آبیاری کی وجہ سے صحت مند پودوں تک پھیلتا ہے۔ یہ پودے کی بافتوں میں پتے کے سوراخوں اور زخموں کے ذریعے داخل ہوتا ہے۔ موزوں درجہ حرارت کی رینج 25 تا 30 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ جب فصل ایک بار انفیکشن کا شکار ہو جائے تو مرض کو قابو کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور اس سے پوری فصل کا نقصان ہو سکتا ہے۔

حیاتیاتی کنٹرول

بیکٹیریل دھبے کا علاج کرنا بہت مشکل اور مہنگا کام ہے۔اگر مرض موسم کے ابتدا میں ہو تو پوری فصل کو ضائع کرنے پر غور کریں۔ تانبے پر مبنی بیکٹیریا کش ادویات شاخ و برگ اور پھل پر حفاظتی تہ فراہم کرتی ہیں۔ بیکٹیریل وائرسز (بیکٹیریوفیجز) جو بالخصوص بیکٹیریا کو مارتے ہیں دستیاب ہیں۔ بیجوں کو ایک منٹ تک 1.3% سوڈیم ہائپوکلورائیٹ یا گرم پانی (50 ڈگری سینٹی گریڈ) میں 25 منٹ تک بھگوئے رکھنا مرض کا وقوع کم کر سکتا ہے۔

کیمیائی کنٹرول

اگر دستیاب ہو تو ہمیشہ حیوی معالجات کے ساتھ بچاؤ کی تدابیر والی ایک مکمل حکمت عملی اختیار کریں۔ تانبے پر مبنی بیکٹیریا کش ادویات محافظین کے بطور استعمال کی جا سکتی ہیں اور مرض پر جزوی کنٹرول فراہم کر سکتی ہیں۔ مرض کی پہلی علامت پر اطلاق اور پھر جب گرم، نم حالات آ جائیں تو 10 تا 14 دن کا وقفہ۔ چونکہ تانبے کے خلاف مزاحمت اکثر پیدا ہو جاتی ہے لہذا مینکوزیب کے ساتھ تانبے پر مبنی بیکٹیریا کش دوا بھی تجویز کی جاتی ہے۔

احتیاطی تدابیر

  • اگر ممکن ہو تو سندیافتہ ذرائع سے مرض سے پاک بیج لگائیں.
  • اگر مقامی طور پر دستیاب ہوں تو مزاحم انواع استعمال کریں.
  • ابر آلود موسم میں کھیت کی باقاعدگی سے جانچ کریں.
  • پتے کے دھبوں والا کوئی بھی تخمی پودا یا پودے کے عضو کو ہٹا کر جلا دیں.
  • کھیت کے اندر اور اردگرد سے فالتو جھاڑیاں نکال دیں.
  • مٹی سے پودے تک پہنچنے والی آلودگی سے بچنے کیلئے مٹی پر ملچ ڈال دیں.
  • آلات اور سامان کو صاف کریں.
  • اونچائی سے آبیاری کرنے اور پتے بوٹے گیلے ہونے پر کھیت میں کام کرنے سے گریز کریں.
  • کٹائی کے بعد پودے کے فضلے کو گہرا ہل چلا کر دفنا دیں.
  • متبادل صورت میں، پودے کے فضلے کو ہٹا دیں اور مٹی کو کچھ ہفتوں یا مہینے کیلئے ایسے ہی چھوڑ دیں (آفتاب زدگی).
  • غیر حساس فصل کے ساتھ 2 تا 3 سال کی فصل کی گردش کا منصوبہ بنائیں.