تمباکو کا کاٹ کیڑا

  • علامات

  • محرک

  • حیاتیاتی کنٹرول

  • کیمیائی کنٹرول

  • احتیاطی تدابیر

تمباکو کا کاٹ کیڑا

Spodoptera litura

کیڑا


لب لباب

  • سنڈیاں ندیدے پن سے پتوں کو کھاتی ہیں اور پھلیوں میں سوراخ کر کہ انہیں نقصان پہنچاتی ہیں.
  • سنڈیوں کا وسیع پیمانے پر غذا حاصل کرنا خاطر خواہ نقصان اور پت جھڑ کا سبب بن سکتا ہے.

میزبانان:

شملہ مرچ اور مرچی

بینگن

کھیرا

ٹماٹر

بند گوبھی

سیاہ اور سبز چنا

کپاس

سویا بین

لہسن

چاول

مکئی

کیلا

مونگ پھلی

آم

علامات

انڈوں سے نئی نئی نکلنے والی سنڈیاں غول پسندی سے پتوں کو کھاتی ہیں، پتے کی بافتوں کو کھرچ ڈالتی ہیں اور پودے کو مکمل طور پر تہی دست کر دیتی ہیں۔ پرانی سنڈیاں پھیل جاتی ہیں اور بیل بوٹوں پر رات میں ندیدے پن کے ساتھ کھاتی ہیں۔ دن کے وقت میں، یہ عموماً پودوں کی بنیادوں کے آس پاس مٹی کے اندر چھپ جاتی ہیں۔ ہلکی مٹیوں میں یہ سنڈیاں مونگ پھلی کی پھلیوں تک پہنچ جاتی ہیں اور انہیں نقصان پہنچاتی ہیں۔ بہت زیادہ کھانے کی وجہ سے، صرف ڈنٹھلیں اور شاخیں ہی باقی رہ جاتی ہیں۔ سنڈیاں اور بالغان 15 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے درمیان فروغ پاتے ہیں۔ البتہ، اس رینج کے اندر بلند درجہ حرارت زیادہ حوصلہ افزا ہوتے ہیں۔

محرک

بالغ پروانوں کے جسم خاکستری مائل بھورے ہوتے ہیں اور اگلے پر کناروں پر سفید لہردار نشانات کے ساتھ رنگ برنگے ہوتے ہیں۔ پچھلے پر شفاف سفید ہوتے ہیں اور حاشیوں کے ساتھ اور نسوں کے ساتھ بھوری لکیروں والے ہوتے ہیں۔ مادائیں پتے کے اوپری حصے پر جتھوں کی صورت میں سینکڑوں انڈے دیتی ہیں جو سنہری مائل بھورے اسکیلز میں ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ ٹوٹنے کے بعد، بالوں سے پاک ہلکی سبز رنگ کی سنڈی نکل کر فوراً سے پتوں کو ندیدے پن کے ساتھ اپنی غذا بنانا شروع کر دیتی ہے۔ پرانی سنڈیاں گہرے سبز سے لے کر بھورے رنگ کی ہوتی ہیں اور ان کوکھوں پر گہرے دھبے ہوتے ہیں اور پیٹ کچھ حد تک صاف ہوتے ہیں۔ دو پیلے طولی طیف ان کے اطراف میں سیدھے چلتے ہیں جن میں سیاہ مثلثی دھبے مداخلت کرتے ہیں۔ ایک نارنجی طیف ان دھبوں کے درمیان عقبی جانب سے چلتا ہے۔ سنڈیاں رات کو کھاتی ہیں اور دن کو مٹی میں پناہ لے لیتی ہیں۔

حیاتیاتی کنٹرول

انواع ٹرائی کو گراما چلونس، ٹیلینومس ریمس یا اپانٹیلیس افریقانس کی طفیلی بھڑیں ان کے انڈوں یا سنڈیوں کو غذا بناتی ہیں۔ نیوکلیئر پولی ہیڈروسس وائرس (این پی وی) یا بیسیلس تھورنجیئنسس پر مبنی حیوی حشراک کش ادویات بھی اچھا اثر دکھاتی ہیں۔ متبادل طور پر، حشرے کیلئے مرض زا فطر نوموریا رائیلی اور سیراشیا مارسیسینز کو بھی پتوں پر اسپرے کیا جا سکتا ہے۔ چاول کی بھوسی، راب اور لال شکر پر مبنی بیٹ محلول بھی شام کے اوقات میں مٹی پر پھیلائے جا سکتے ہیں۔ نیم کے پتوں یا مغز کے تیل کے عروق اور پونگامیا گلابرا بیجوں کے عروق مونگ پھلی کے پتوں پر سپوڈوپٹیرا لیٹورا کی سنڈیوں کے لیے بیحد مؤثر ہیں۔

کیمیائی کنٹرول

اگر دستیاب ہو تو ہمیشہ حیوی معالجات کے ساتھ بچاؤ کی تدابیر والی ایک مکمل حکمت عملی اختیار کریں۔ حشرات کش ادویات کا زیادہ استعمال کیڑے میں مزاحمت پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ ایزاڈیریکٹن، امیڈاکلوپرڈ یا قوئنالفوس کو بیض کے مرحلے کے دوران استعمال کر کہ سنڈیوں کو انڈوں سے باہر نکلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ نو عمر سنڈیوں کو روکنے کیلئے کاربارل، قوئنالفوس، ڈائی کلوروس یا ڈائی فلوبینزورون استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ کاربارل پر مبنی بیٹس محلول بھی آبادیوں کو کم کرنے کیلئے مؤثر ہوتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر

  • اپنی مارکیٹ میں متحمل انواع کیلئے چیک کریں.
  • کیڑوں کی آبادیوں کے اوج سے اجتناب کیلئے جلدی بیج بو دیں.
  • موسم کے وسط میں طویل قحط سالی سے اجتناب کیلئے باقاعدگی کے ساتھ آبیاری کریں.
  • پھانسنے والی فصلیں جیسے کہ سورج مکھی، تارو اور کیسٹر آئل کے پودے کو اپنے کھیتوں کے اردگرد اور اندر لگائیں.
  • پروانوں کو لبھانے کیلئے روشنی یا فیرومون کے پھندے استعمال کریں.
  • اپنے کھیتوں کو مرض کی نشانیوں جیسے کہ انڈے کے اجسام، خوراک سے حاصل ہونے والا نقصان یا سنڈیوں کی موجودگی کیلئے چیک کریں.
  • ان انڈوں کے اجسام اور سنڈیوں کو پھانسنے والے پودوں اور میزبان پودوں سے جمع کر کہ تباہ کر دیں.
  • بونے کے 15 سے 20 دنوں کے بعد فالتو جھاڑیوں کو ہٹا دیں.
  • زراعت کے دوران پودوں کو دھیان سے ہینڈل کریں اور پودے کو نقصانات اور انجریاں لگنے سے بچا کر رکھیں.
  • اپنے ساز و سامان کے حفظان صحت کا خیال رکھیں.
  • سپوڈوپٹیرا پیوپا کو قدرتی دشمنوں اور موسم سے متعلق عناصر کے سامنے ظاہر کرنے کیلئے گہرا ہل چلائیں.