نائٹروجن کی کمی - کپاس

کپاس

نائٹروجن کی کمی

Nitrogen Deficiency


لب لباب

  • متوسط صورتوں میں، بڑے پتے مدھم سبز ہو جاتے ہیں اور ان کی ڈنٹھلیں اور نسیں ہلکے سرخ رنگ کے ساتھ بے رنگی کا شکار ہو جاتی ہیں.
  • اگر اصلاح نہ کی جائے تو یہ پہلے یکساں طور پر بے خضر ہو جاتے ہیں اور بعد میں پیلے مائل سفید (بشمول نسیں).
  • نو عمر پتے مدھم سبز اور معمول سے چھوٹے رہتے ہیں.
  • وقت سے قبل موت اور پتوں کا جھڑنا ہو سکتا ہے.
  • نائٹروجن لگانے کے بعد صحت کی بحالی کچھ دن کے بعد ہی دیکھی جا سکتی ہے.

علامات

علامات پہلے پرانے پتوں میں پیدا ہوتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ نو عمر پتوں میں چلی جاتی ہیں۔ متوسط صورتوں میں، پرانے میچور پتے مدھم سبز ہو جاتے ہیں۔ اگر اصلاح نہ کی جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ ایک وسیع پیمانے پر پھیلنے والی بے خضری ان پتوں پر پیدا ہو جاتی ہے جس کے ساتھ نسوں اور ڈنٹھلوں کی ہلکی سبز بے رنگی بھی ہوتی ہے۔ ڈنٹھلوں کا تجزیہ کاشتکاروں کو فصل میں نائٹروجن کی کمی کے آغاز کا پتہ لگانے کی اجازت دیتا ہے۔ جیسے جیسے کمی بڑھتی ہے، یہ پتے بالآخر پیلے مائل سفید (بشمول نسیں) ہو جاتے ہیں اور اوپر کی طرف مڑ جاتے ہیں یا نشوونما پا کر بدہیئت ہو جاتے ہیں۔ نو عمر پتے مدھم سبز رہتے ہیں مگر معمول سے کافی کم بڑے ہوتے ہیں۔ شاخوں میں کمی کی وجہ سے پودے میں دبلے پن کا عنصر شامل ہو جاتا ہے مگر ان کا قد عموماً نارمل ہی رہتا ہے۔ پودے پانی کے تناؤ اور پتوں کے مرجھانے کیلئے زیادہ زدپذیر ہو جاتے ہیں۔ قبل از وقت موت اور جھڑنا بھی ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے پیداواروں میں خاطر خواہ کمی آ جاتی ہے۔ نائٹروجن کو کھاد کی صورت لگا کر کچھ ہی دنوں میں صحت کی بحالی دیکھی جا سکتی ہے۔

محرک

پودے کی نموپذیری کے دوران نائٹروجن کی بلند سطحوں کا ہونا ضروری ہے۔ موزوں موسم کے عرصوں میں، تیزی سے اگنے والی فصلوں کو اچھی نائٹروجن کی فراہمی دینا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے سبزے اور پھل/اناج کے پیداوار کی حد قابلیت تک جا پہنچیں۔ نائٹروجن کی کمی مٹی والی، اچھی طرح نکاسی کی گئی مٹیوں میں جن میں نامیاتی اشیاء کم ہوں دیکھی جا سکتی ہے کیونکہ یہ غذائیت کو نچوڑ لیتی ہے۔ کثرت سے ہونے والی بارشیں، سیلاب یا زیادہ مقدار میں آبیاری مٹی سے نائٹروجن کو دھو ڈالتی ہیں اور یہ بھی کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ قحط سالی کے تناؤ کے دورانیے پانی اور غذائیت جذب کرنے کی قابلیت کو متاثر کرتے ہیں جس کا نتیجہ غذائیت کی غیر متوازن فراہمی کی صورت میں نکلتا ہے۔ بالآخر، مٹی کا پی-ایچ بھی پودے کو نائٹروجن کی دستیابی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مٹی کا کم یا زیادہ دونوں پی-ایچ پودے کے نائٹروجن جذب کرنے کی قابلیت کو منفی انداز میں متاثر کرتے ہیں۔

حیاتیاتی کنٹرول

مٹی میں نامیاتی اشیاء کی بلند سطح مٹی کے اسٹرکچر کو متوازن بنا سکتی ہے اور مٹی کے پانی اور غذائیت کو روک کر رکنے کی گنجائش کو بہتر بنا سکتی ہے۔ نامیاتی اشیاء کو مٹی میں ملغوبے، گوبر، نباتی کوئلے کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے یا پھر محض بچھو گھاس کی کھاد، گوانو، ہارن میل یا نائٹرولائم کے ذریعے شامل کیا جا سکتا ہے۔ بچھو گھاس کی کھاد کو براہ راست پتوں پر اسپرے کیا جا سکتا ہے۔

کیمیائی کنٹرول

- نائٹروجن (N) پر مشتمل کھادیں استعمال کریں۔ - مثالیں: یوریا، NPK، امونیم نائٹریٹ۔ - اپنی مٹی اور فصل کیلئے بہترین پروڈکٹ اور خوراک جاننے کیلئے اپنے زرعی مشیر سے رجوع کریں۔ مزید تجاویز: - آپ کی فصل کی پیداوار بہتر بنانے کیلئے فصل لگنے کا موسم شروع ہونے سے پہلے مٹی کا ٹیسٹ کرنا تجویز کیا جاتا ہے۔ - موسم کے دوران متعدد قسطوں میں نائٹروجن استعمال کرنا بہتر ہے۔ - اگر کاشتکاری کا وقت قریب ہو تو استعمال نہ کریں۔

احتیاطی تدابیر

  • کھادوں کے ضرورت سے زیادہ یا غیر متوازن استعمال کا یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ پودوں کیلئے کچھ قلیل مُغذِّی غیر دستیاب ہو جائیں.
  • اگر ضروری ہو تو موزوں رینج میں واپس لانے کیلئے مٹی اور چونے کا پی-ایچ چیک کریں.
  • کھیتوں کو اچھی نکاسی آب فراہم کریں اور ضرورت سے زیادہ پانی مت دیں.
  • اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ خشک سالی کے دوران پودوں کو باقاعدگی سے پانی دیتے ہیں.
  • مثلاً ملغوبے، گوبر یا ملچ سے نامیاتی اشیاء شامل کرنا نہ بھولیں.